نئی دہلی،7؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی میٹرو نے گزشتہ تقریباً 11ماہ کے دوران ٹرین کے فرش پر بیٹھے پکڑے گئے لوگوں سے 38لاکھ روپیہ جرمانہ وصول کیا ہے۔یہ معلومات حق اطلاعات (آر ٹی آئی)کے تحت سامنے آئی ہے۔گندگی پھیلانے، رکاوٹ پیدا کرنے، مناسب ٹوکن کے بغیر سفر کرنے اور حکام کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سمیت مختلف جرائم کے لئے جون 2017سے مئی 2018کے درمیان 51,000 لوگوں سے کل 90لاکھ روپے وصول کئے گئے۔دائرکئے گئے آر ٹی آئی کے جواب میں دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی)نے کہا کہ ان میں سے سب سے زیادہ 38لاکھ روپیہ فرش پر بیٹھنے والوں سے وصول کیا گیا۔ایک اندازے کے مطابق ٹرین کے فرش پر بیٹھنے کے لئے 19,026 لوگوں پر جرمانہ لگایا گیا۔
میٹرو کے قوانین کے مطابق میٹروٹرین کے فرش پر بیٹھنا عوامی آداب کے مطابق نہیں ہے اور اس کے لئے 200روپے کا جرمانہ ہے۔ڈی ایم آر سی کے مطابق گزشتہ سال جون سے لے کر اس سال مئی تک 51,441 لوگوں پر جرمانہ لگایا گیا اور کل89,94,380 روپے وصول کئے گئے۔
میٹرو کی بلیو لائن پر ٹرین کی چھت پر سفر کرنے کا بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا جس کے لئے جرم کرنے والے سے 50روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا۔یلو لائن پر سب سے زیادہ جرمانہ 39,20,220 روپیہ وصول کیا گیا۔دیگر جرائم جس میں جرمانہ وصول کیا گیا ان میں ٹوکن لے جاتے ہوئے، قابلد اعتراض مواد لے جاتے ہوئے، غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے اور میٹرو کی پٹریوں پر چلنا شامل ہے۔کچھ مسافروں نے بتایا کہ انہیں سمجھ نہیں آیا کہ فرش پر بیٹھنے کے لئے جرمانہ کیوں وصول کیا گیا۔
دوارکا سے نوئیڈا روزانہ سفر کرنے والی دیپکا بھاٹیہ کو میٹرو سے گھر پہنچنے میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس دن بھر کام کرنے کے بعد کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ جرم ہے لیکن اس کے پیچھے کی وجہ معلوم نہیں۔